السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکا تہ
یہ ایک
مسلّمہ حقیقت ہے کہ اتحاد واتفاق باعث خیروبرکت اور اجتماعی عروج و ارتقاء
کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ جبکہ افتراق و انتشار‘ تباہی و بربادی‘ غربت و
افلاس کا پیش خیمہ ہے۔ تاریخ عالم کے مطالعے سے یہ بات پوری طرح عیاں
ہوجاتی ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں وہی قومیں اپنی عظمت و سطوت کے پرچم
لہراتی ہیں جنہوں نے آپسی بغض و عناد اور اختلاف و انتشار سے دور رہ کر
اپنی پوری توانائی ملکی‘ ملی‘ سماجی اور سیاسی اصلاح میں صرف کی۔ اس کے
برعکس وہ قومیں جو خانہ جنگی کا شکار ہوکر الگ الگ ٹولیوں میں بٹ گئیں
انہیں زندگی کے ہر شعبے میں شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا اور زندگی کے ہر
شعبے میں انہیں ناکامی و نامرادی ہی ہاتھ آئی۔
عالمی منظر نامے میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کسی بھی صاحب نظر سے
پوشیدہ نہیں۔ مسلمان معاشیات‘ اقتصادیات‘ سیاسیات بلکہ زندگی کے تمام اہم
شعبوں میں تشویش ناک حد تک بچھڑتے جارہے ہیں۔ عالمی تجارتی منڈیوں میں ان
کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہوتی جارہی ہے۔ آپس کے اختلاف و انتشار نے
انہیں پوری طرح کھوکھلا کر ڈالا ہے۔ تمام تر معدنی ذخائر پر قبضہ ہونے کے
باوجود زندگی کے تمام شعبوں میں دوسروں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں۔ مغربی
ممالک کی چاپلوسی کا جذبہ اس قدر غالب ہوچکا ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین
اسلامی ممالک کی تباہی و بربادی کا تماشا نہایت خاموشی کے ساتھ دیکھ کر
مغربی ممالک کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔ سقوط بغداد اور
افغانستان کی تباہی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ آخر تمام اسلامی حکومتیں اپنے
سیاسی و مذہبی حریفوں کے خلاف کیوں متحد نہیں ہوجاتیں؟ انما المومنون اخوۃ
کے اسلامی درس کو کیوں فراموش کردیا گیا؟ آخر یہ رشتہ اخوت کب کام آئے گا؟
مخالفین اس وقت اپنی پوری توانائی اس مقصد کے لئے صرف کررہے ہیں کہ
مسلمانوں میں آپسی اتحاد و اتفاق کے ہرممکن طریقے کو روکا جائے اور انہیں
مسلکی و مشربی مسائل میں اس قدر الجھا دیا جائے کہ سیاسی‘ سماجی اور معاشی و
اقتصادی استحکام کا موقع ہی نہ مل سکے۔اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے وہ
وقتا فوقتا نئے نئے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔ ہمارے سیاسی قائدین مخالفین کی
اس پالیسی کو ناکام بنانے کے لئے موثر لائحہ عمل تیار کرنے کے بجائے دانستہ
یا نادانستہ اس سے صرف نظر کررہے ہیں۔ بلاشبہ یہ غفلت مستقبل میں ہمارے
لئے مزید مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ ہاں 4 جون 2008ء کو مکہ المکرمہ میں منعقد
ہونے والے سہ روزہ بین المذاہب مکالمہ کانفرنس کو اس ضمن میں ایک اہم پیش
رفت کہا جاسکتا ہے جس میں عالم اسلام کے پانچ سو سے زائد علمائ‘ فقہا‘
مفکرین و مبصرین اور تقریبا چودہ سو دوسرے سیاسی قائدین نے شرکت کی۔ جس کا
مقصد اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنا اور مسلمانوں
کے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے اجتماعی طور پر غوروفکر کرنا تھا۔ خدا کرے اس
کانفرنس کے مثبت نتائج برآمد ہوں اور عالم اسلام کی شیرازہ بندی کا دیرینہ
خواب شرمندہ تعبیر ہو۔
مسلمانوں کو آپسی اختلاف و انتشار کی تشویش ناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے
آپسی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ساتھ ساتھ قرآنی اور اسلامی اصولوں پر
عمل پیرا ہونا بھی ضروری ہے۔ اسلام نے ہر موڑ پر فرد پر جماعت کو ترجیح دی
ہے۔ انفرادیت کے بجائے اجتماعیت کو باعث فتح و نصرت قرار دیا ہے۔ فرمان
رسالت ہے۔
یداﷲ علی الجماعۃ (مشکوٰۃ) اﷲ تعالیٰ کی حمایت جماعت کے ساتھ ہے
اتبعوا السواد الاعظم ‘ وارکعوا مع الراکعین
اور ان جیسے دوسرے احکام سے ہمیں اجتماعیت کاو اضح درس ملتا ہے۔
اسلامی سماج و معاشرے میں اتحاد و اتفاق کی فضا اسی وقت قائم ہوسکتی ہے جب
ہمارا مطمع نظر مادیت کے بجائے روحانیت اور حصول دنیا کے بجائے دین کی
ترویج و اشاعت ہو۔ آپسی بغض و عناد اور بے جا مسلکی و مشربی تعصبات سے
بالاتر ہوکر ہم ایمانی رشتہ اخوت کے بندھن میں بندھ جائیں اور ایک دوسرے کے
تعلق سے اپنے دل میں دردمندانہ جذبہ پیدا کریں۔
لیکن آج حالات نہایت ناگفتہ بہ ہوچکے ہیں۔ خلوص و للہیت بہت حد تک رخصت
ہوچکی ہے۔ آج ذاتی مفادات کے حصول کے لئے جماعت کا بڑے سے بڑا نقصان بھی
بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرلیا جاتا ہے۔ بعض جاہ پرست افراد دنیا
طلبی کی خاطر ہمیشہ مشربی اختلافات کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔ انہیں جماعت کا
اتحاد و اتفاق ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اختلاف و انتشار کی آگ بھڑکانے کے لئے
اپنی ذہنی و فکری توانائیاں صرف کررہے ہیں۔ ہمیں ایسے افراد کو نگاہ میں
رکھ کر کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا تاکہ ہماری جماعت مزید تباہی و بربادی
سے محفوظ رہ سکے۔
اتحاد و اتفاق کی قوت کا اندازہ چند برسوں پہلے رونما ہونے والے ڈنمارک کے
حادثے سے لگایا جاسکتا ہے۔ جب وہاں کے ایک گستاخ کارٹونسٹ نے رسول اکرمﷺ کا
اہانت آمیزکارٹون بنا کر اخبارات میں شائع کیا تھا۔ پھر عالم اسلام سے پے
درپے شدید احتجاجات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور متفقہ طور پر ڈنمارک کی
مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ نتیجتاً ڈنمارک کی معیشت تباہ و برباد
ہونے لگی تھی۔ آخرکار ڈنمارک حکومت کو لاچار و مجبور ہوکر عالم اسلام سے
معافی طلب کرنی پڑی تھی اور اعلانیہ طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑا
تھا۔ یقینا یہ اعتراف مسلمانوں کے آپسی اتحاد ہی کا نتیجہ تھا۔ آج بھی اگر
قوم مسلم آپس میں اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرکے ایک دوسرے کے دست و بازو
بن جائیں تو اپنی عظمت رفتہ کی بازیابی میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
٭٭٭
اختلاف کو ہوا دینے والے شرپسندوں کی گوشمالی کرنی چاہئے - See more at: http://www.tahaffuz.com/4612/#sthash.8hFYSEZw.dpuf
یہ ایک
مسلّمہ حقیقت ہے کہ اتحاد واتفاق باعث خیروبرکت اور اجتماعی عروج و ارتقاء
کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ جبکہ افتراق و انتشار‘ تباہی و بربادی‘ غربت و
افلاس کا پیش خیمہ ہے۔ تاریخ عالم کے مطالعے سے یہ بات پوری طرح عیاں
ہوجاتی ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں وہی قومیں اپنی عظمت و سطوت کے پرچم
لہراتی ہیں جنہوں نے آپسی بغض و عناد اور اختلاف و انتشار سے دور رہ کر
اپنی پوری توانائی ملکی‘ ملی‘ سماجی اور سیاسی اصلاح میں صرف کی۔ اس کے
برعکس وہ قومیں جو خانہ جنگی کا شکار ہوکر الگ الگ ٹولیوں میں بٹ گئیں
انہیں زندگی کے ہر شعبے میں شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا اور زندگی کے ہر
شعبے میں انہیں ناکامی و نامرادی ہی ہاتھ آئی۔
عالمی منظر نامے میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کسی بھی صاحب نظر سے
پوشیدہ نہیں۔ مسلمان معاشیات‘ اقتصادیات‘ سیاسیات بلکہ زندگی کے تمام اہم
شعبوں میں تشویش ناک حد تک بچھڑتے جارہے ہیں۔ عالمی تجارتی منڈیوں میں ان
کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہوتی جارہی ہے۔ آپس کے اختلاف و انتشار نے
انہیں پوری طرح کھوکھلا کر ڈالا ہے۔ تمام تر معدنی ذخائر پر قبضہ ہونے کے
باوجود زندگی کے تمام شعبوں میں دوسروں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں۔ مغربی
ممالک کی چاپلوسی کا جذبہ اس قدر غالب ہوچکا ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین
اسلامی ممالک کی تباہی و بربادی کا تماشا نہایت خاموشی کے ساتھ دیکھ کر
مغربی ممالک کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔ سقوط بغداد اور
افغانستان کی تباہی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ آخر تمام اسلامی حکومتیں اپنے
سیاسی و مذہبی حریفوں کے خلاف کیوں متحد نہیں ہوجاتیں؟ انما المومنون اخوۃ
کے اسلامی درس کو کیوں فراموش کردیا گیا؟ آخر یہ رشتہ اخوت کب کام آئے گا؟
مخالفین اس وقت اپنی پوری توانائی اس مقصد کے لئے صرف کررہے ہیں کہ
مسلمانوں میں آپسی اتحاد و اتفاق کے ہرممکن طریقے کو روکا جائے اور انہیں
مسلکی و مشربی مسائل میں اس قدر الجھا دیا جائے کہ سیاسی‘ سماجی اور معاشی و
اقتصادی استحکام کا موقع ہی نہ مل سکے۔اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے وہ
وقتا فوقتا نئے نئے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔ ہمارے سیاسی قائدین مخالفین کی
اس پالیسی کو ناکام بنانے کے لئے موثر لائحہ عمل تیار کرنے کے بجائے دانستہ
یا نادانستہ اس سے صرف نظر کررہے ہیں۔ بلاشبہ یہ غفلت مستقبل میں ہمارے
لئے مزید مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ ہاں 4 جون 2008ء کو مکہ المکرمہ میں منعقد
ہونے والے سہ روزہ بین المذاہب مکالمہ کانفرنس کو اس ضمن میں ایک اہم پیش
رفت کہا جاسکتا ہے جس میں عالم اسلام کے پانچ سو سے زائد علمائ‘ فقہا‘
مفکرین و مبصرین اور تقریبا چودہ سو دوسرے سیاسی قائدین نے شرکت کی۔ جس کا
مقصد اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنا اور مسلمانوں
کے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے اجتماعی طور پر غوروفکر کرنا تھا۔ خدا کرے اس
کانفرنس کے مثبت نتائج برآمد ہوں اور عالم اسلام کی شیرازہ بندی کا دیرینہ
خواب شرمندہ تعبیر ہو۔
مسلمانوں کو آپسی اختلاف و انتشار کی تشویش ناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے
آپسی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ساتھ ساتھ قرآنی اور اسلامی اصولوں پر
عمل پیرا ہونا بھی ضروری ہے۔ اسلام نے ہر موڑ پر فرد پر جماعت کو ترجیح دی
ہے۔ انفرادیت کے بجائے اجتماعیت کو باعث فتح و نصرت قرار دیا ہے۔ فرمان
رسالت ہے۔
یداﷲ علی الجماعۃ (مشکوٰۃ) اﷲ تعالیٰ کی حمایت جماعت کے ساتھ ہے
اتبعوا السواد الاعظم ‘ وارکعوا مع الراکعین
اور ان جیسے دوسرے احکام سے ہمیں اجتماعیت کاو اضح درس ملتا ہے۔
اسلامی سماج و معاشرے میں اتحاد و اتفاق کی فضا اسی وقت قائم ہوسکتی ہے جب
ہمارا مطمع نظر مادیت کے بجائے روحانیت اور حصول دنیا کے بجائے دین کی
ترویج و اشاعت ہو۔ آپسی بغض و عناد اور بے جا مسلکی و مشربی تعصبات سے
بالاتر ہوکر ہم ایمانی رشتہ اخوت کے بندھن میں بندھ جائیں اور ایک دوسرے کے
تعلق سے اپنے دل میں دردمندانہ جذبہ پیدا کریں۔
لیکن آج حالات نہایت ناگفتہ بہ ہوچکے ہیں۔ خلوص و للہیت بہت حد تک رخصت
ہوچکی ہے۔ آج ذاتی مفادات کے حصول کے لئے جماعت کا بڑے سے بڑا نقصان بھی
بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرلیا جاتا ہے۔ بعض جاہ پرست افراد دنیا
طلبی کی خاطر ہمیشہ مشربی اختلافات کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔ انہیں جماعت کا
اتحاد و اتفاق ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اختلاف و انتشار کی آگ بھڑکانے کے لئے
اپنی ذہنی و فکری توانائیاں صرف کررہے ہیں۔ ہمیں ایسے افراد کو نگاہ میں
رکھ کر کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا تاکہ ہماری جماعت مزید تباہی و بربادی
سے محفوظ رہ سکے۔
اتحاد و اتفاق کی قوت کا اندازہ چند برسوں پہلے رونما ہونے والے ڈنمارک کے
حادثے سے لگایا جاسکتا ہے۔ جب وہاں کے ایک گستاخ کارٹونسٹ نے رسول اکرمﷺ کا
اہانت آمیزکارٹون بنا کر اخبارات میں شائع کیا تھا۔ پھر عالم اسلام سے پے
درپے شدید احتجاجات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور متفقہ طور پر ڈنمارک کی
مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ نتیجتاً ڈنمارک کی معیشت تباہ و برباد
ہونے لگی تھی۔ آخرکار ڈنمارک حکومت کو لاچار و مجبور ہوکر عالم اسلام سے
معافی طلب کرنی پڑی تھی اور اعلانیہ طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑا
تھا۔ یقینا یہ اعتراف مسلمانوں کے آپسی اتحاد ہی کا نتیجہ تھا۔ آج بھی اگر
قوم مسلم آپس میں اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرکے ایک دوسرے کے دست و بازو
بن جائیں تو اپنی عظمت رفتہ کی بازیابی میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
٭٭٭
اختلاف کو ہوا دینے والے شرپسندوں کی گوشمالی کرنی چاہئے - See more at: http://www.tahaffuz.com/4612/#sthash.8hFYSEZw.dpuf
یہ ایک
مسلّمہ حقیقت ہے کہ اتحاد واتفاق باعث خیروبرکت اور اجتماعی عروج و ارتقاء
کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ جبکہ افتراق و انتشار‘ تباہی و بربادی‘ غربت و
افلاس کا پیش خیمہ ہے۔ تاریخ عالم کے مطالعے سے یہ بات پوری طرح عیاں
ہوجاتی ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں وہی قومیں اپنی عظمت و سطوت کے پرچم
لہراتی ہیں جنہوں نے آپسی بغض و عناد اور اختلاف و انتشار سے دور رہ کر
اپنی پوری توانائی ملکی‘ ملی‘ سماجی اور سیاسی اصلاح میں صرف کی۔ اس کے
برعکس وہ قومیں جو خانہ جنگی کا شکار ہوکر الگ الگ ٹولیوں میں بٹ گئیں
انہیں زندگی کے ہر شعبے میں شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا اور زندگی کے ہر
شعبے میں انہیں ناکامی و نامرادی ہی ہاتھ آئی۔
عالمی منظر نامے میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کسی بھی صاحب نظر سے
پوشیدہ نہیں۔ مسلمان معاشیات‘ اقتصادیات‘ سیاسیات بلکہ زندگی کے تمام اہم
شعبوں میں تشویش ناک حد تک بچھڑتے جارہے ہیں۔ عالمی تجارتی منڈیوں میں ان
کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہوتی جارہی ہے۔ آپس کے اختلاف و انتشار نے
انہیں پوری طرح کھوکھلا کر ڈالا ہے۔ تمام تر معدنی ذخائر پر قبضہ ہونے کے
باوجود زندگی کے تمام شعبوں میں دوسروں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں۔ مغربی
ممالک کی چاپلوسی کا جذبہ اس قدر غالب ہوچکا ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین
اسلامی ممالک کی تباہی و بربادی کا تماشا نہایت خاموشی کے ساتھ دیکھ کر
مغربی ممالک کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔ سقوط بغداد اور
افغانستان کی تباہی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ آخر تمام اسلامی حکومتیں اپنے
سیاسی و مذہبی حریفوں کے خلاف کیوں متحد نہیں ہوجاتیں؟ انما المومنون اخوۃ
کے اسلامی درس کو کیوں فراموش کردیا گیا؟ آخر یہ رشتہ اخوت کب کام آئے گا؟
مخالفین اس وقت اپنی پوری توانائی اس مقصد کے لئے صرف کررہے ہیں کہ
مسلمانوں میں آپسی اتحاد و اتفاق کے ہرممکن طریقے کو روکا جائے اور انہیں
مسلکی و مشربی مسائل میں اس قدر الجھا دیا جائے کہ سیاسی‘ سماجی اور معاشی و
اقتصادی استحکام کا موقع ہی نہ مل سکے۔اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے وہ
وقتا فوقتا نئے نئے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔ ہمارے سیاسی قائدین مخالفین کی
اس پالیسی کو ناکام بنانے کے لئے موثر لائحہ عمل تیار کرنے کے بجائے دانستہ
یا نادانستہ اس سے صرف نظر کررہے ہیں۔ بلاشبہ یہ غفلت مستقبل میں ہمارے
لئے مزید مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ ہاں 4 جون 2008ء کو مکہ المکرمہ میں منعقد
ہونے والے سہ روزہ بین المذاہب مکالمہ کانفرنس کو اس ضمن میں ایک اہم پیش
رفت کہا جاسکتا ہے جس میں عالم اسلام کے پانچ سو سے زائد علمائ‘ فقہا‘
مفکرین و مبصرین اور تقریبا چودہ سو دوسرے سیاسی قائدین نے شرکت کی۔ جس کا
مقصد اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنا اور مسلمانوں
کے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے اجتماعی طور پر غوروفکر کرنا تھا۔ خدا کرے اس
کانفرنس کے مثبت نتائج برآمد ہوں اور عالم اسلام کی شیرازہ بندی کا دیرینہ
خواب شرمندہ تعبیر ہو۔
مسلمانوں کو آپسی اختلاف و انتشار کی تشویش ناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے
آپسی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ساتھ ساتھ قرآنی اور اسلامی اصولوں پر
عمل پیرا ہونا بھی ضروری ہے۔ اسلام نے ہر موڑ پر فرد پر جماعت کو ترجیح دی
ہے۔ انفرادیت کے بجائے اجتماعیت کو باعث فتح و نصرت قرار دیا ہے۔ فرمان
رسالت ہے۔
یداﷲ علی الجماعۃ (مشکوٰۃ) اﷲ تعالیٰ کی حمایت جماعت کے ساتھ ہے
اتبعوا السواد الاعظم ‘ وارکعوا مع الراکعین
اور ان جیسے دوسرے احکام سے ہمیں اجتماعیت کاو اضح درس ملتا ہے۔
اسلامی سماج و معاشرے میں اتحاد و اتفاق کی فضا اسی وقت قائم ہوسکتی ہے جب
ہمارا مطمع نظر مادیت کے بجائے روحانیت اور حصول دنیا کے بجائے دین کی
ترویج و اشاعت ہو۔ آپسی بغض و عناد اور بے جا مسلکی و مشربی تعصبات سے
بالاتر ہوکر ہم ایمانی رشتہ اخوت کے بندھن میں بندھ جائیں اور ایک دوسرے کے
تعلق سے اپنے دل میں دردمندانہ جذبہ پیدا کریں۔
لیکن آج حالات نہایت ناگفتہ بہ ہوچکے ہیں۔ خلوص و للہیت بہت حد تک رخصت
ہوچکی ہے۔ آج ذاتی مفادات کے حصول کے لئے جماعت کا بڑے سے بڑا نقصان بھی
بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرلیا جاتا ہے۔ بعض جاہ پرست افراد دنیا
طلبی کی خاطر ہمیشہ مشربی اختلافات کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔ انہیں جماعت کا
اتحاد و اتفاق ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اختلاف و انتشار کی آگ بھڑکانے کے لئے
اپنی ذہنی و فکری توانائیاں صرف کررہے ہیں۔ ہمیں ایسے افراد کو نگاہ میں
رکھ کر کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا تاکہ ہماری جماعت مزید تباہی و بربادی
سے محفوظ رہ سکے۔
اتحاد و اتفاق کی قوت کا اندازہ چند برسوں پہلے رونما ہونے والے ڈنمارک کے
حادثے سے لگایا جاسکتا ہے۔ جب وہاں کے ایک گستاخ کارٹونسٹ نے رسول اکرمﷺ کا
اہانت آمیزکارٹون بنا کر اخبارات میں شائع کیا تھا۔ پھر عالم اسلام سے پے
درپے شدید احتجاجات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور متفقہ طور پر ڈنمارک کی
مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ نتیجتاً ڈنمارک کی معیشت تباہ و برباد
ہونے لگی تھی۔ آخرکار ڈنمارک حکومت کو لاچار و مجبور ہوکر عالم اسلام سے
معافی طلب کرنی پڑی تھی اور اعلانیہ طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑا
تھا۔ یقینا یہ اعتراف مسلمانوں کے آپسی اتحاد ہی کا نتیجہ تھا۔ آج بھی اگر
قوم مسلم آپس میں اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرکے ایک دوسرے کے دست و بازو
بن جائیں تو اپنی عظمت رفتہ کی بازیابی میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
٭٭٭
اختلاف کو ہوا دینے والے شرپسندوں کی گوشمالی کرنی چاہئے - See more at: http://www.tahaffuz.com/4612/#sthash.8hFYSEZw.dpuf
یہ ایک
مسلّمہ حقیقت ہے کہ اتحاد واتفاق باعث خیروبرکت اور اجتماعی عروج و ارتقاء
کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ جبکہ افتراق و انتشار‘ تباہی و بربادی‘ غربت و
افلاس کا پیش خیمہ ہے۔ تاریخ عالم کے مطالعے سے یہ بات پوری طرح عیاں
ہوجاتی ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں وہی قومیں اپنی عظمت و سطوت کے پرچم
لہراتی ہیں جنہوں نے آپسی بغض و عناد اور اختلاف و انتشار سے دور رہ کر
اپنی پوری توانائی ملکی‘ ملی‘ سماجی اور سیاسی اصلاح میں صرف کی۔ اس کے
برعکس وہ قومیں جو خانہ جنگی کا شکار ہوکر الگ الگ ٹولیوں میں بٹ گئیں
انہیں زندگی کے ہر شعبے میں شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا اور زندگی کے ہر
شعبے میں انہیں ناکامی و نامرادی ہی ہاتھ آئی۔
عالمی منظر نامے میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کسی بھی صاحب نظر سے
پوشیدہ نہیں۔ مسلمان معاشیات‘ اقتصادیات‘ سیاسیات بلکہ زندگی کے تمام اہم
شعبوں میں تشویش ناک حد تک بچھڑتے جارہے ہیں۔ عالمی تجارتی منڈیوں میں ان
کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہوتی جارہی ہے۔ آپس کے اختلاف و انتشار نے
انہیں پوری طرح کھوکھلا کر ڈالا ہے۔ تمام تر معدنی ذخائر پر قبضہ ہونے کے
باوجود زندگی کے تمام شعبوں میں دوسروں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں۔ مغربی
ممالک کی چاپلوسی کا جذبہ اس قدر غالب ہوچکا ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین
اسلامی ممالک کی تباہی و بربادی کا تماشا نہایت خاموشی کے ساتھ دیکھ کر
مغربی ممالک کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔ سقوط بغداد اور
افغانستان کی تباہی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ آخر تمام اسلامی حکومتیں اپنے
سیاسی و مذہبی حریفوں کے خلاف کیوں متحد نہیں ہوجاتیں؟ انما المومنون اخوۃ
کے اسلامی درس کو کیوں فراموش کردیا گیا؟ آخر یہ رشتہ اخوت کب کام آئے گا؟
مخالفین اس وقت اپنی پوری توانائی اس مقصد کے لئے صرف کررہے ہیں کہ
مسلمانوں میں آپسی اتحاد و اتفاق کے ہرممکن طریقے کو روکا جائے اور انہیں
مسلکی و مشربی مسائل میں اس قدر الجھا دیا جائے کہ سیاسی‘ سماجی اور معاشی و
اقتصادی استحکام کا موقع ہی نہ مل سکے۔اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے وہ
وقتا فوقتا نئے نئے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔ ہمارے سیاسی قائدین مخالفین کی
اس پالیسی کو ناکام بنانے کے لئے موثر لائحہ عمل تیار کرنے کے بجائے دانستہ
یا نادانستہ اس سے صرف نظر کررہے ہیں۔ بلاشبہ یہ غفلت مستقبل میں ہمارے
لئے مزید مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ ہاں 4 جون 2008ء کو مکہ المکرمہ میں منعقد
ہونے والے سہ روزہ بین المذاہب مکالمہ کانفرنس کو اس ضمن میں ایک اہم پیش
رفت کہا جاسکتا ہے جس میں عالم اسلام کے پانچ سو سے زائد علمائ‘ فقہا‘
مفکرین و مبصرین اور تقریبا چودہ سو دوسرے سیاسی قائدین نے شرکت کی۔ جس کا
مقصد اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنا اور مسلمانوں
کے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے اجتماعی طور پر غوروفکر کرنا تھا۔ خدا کرے اس
کانفرنس کے مثبت نتائج برآمد ہوں اور عالم اسلام کی شیرازہ بندی کا دیرینہ
خواب شرمندہ تعبیر ہو۔
مسلمانوں کو آپسی اختلاف و انتشار کی تشویش ناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے
آپسی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ساتھ ساتھ قرآنی اور اسلامی اصولوں پر
عمل پیرا ہونا بھی ضروری ہے۔ اسلام نے ہر موڑ پر فرد پر جماعت کو ترجیح دی
ہے۔ انفرادیت کے بجائے اجتماعیت کو باعث فتح و نصرت قرار دیا ہے۔ فرمان
رسالت ہے۔
یداﷲ علی الجماعۃ (مشکوٰۃ) اﷲ تعالیٰ کی حمایت جماعت کے ساتھ ہے
اتبعوا السواد الاعظم ‘ وارکعوا مع الراکعین
اور ان جیسے دوسرے احکام سے ہمیں اجتماعیت کاو اضح درس ملتا ہے۔
اسلامی سماج و معاشرے میں اتحاد و اتفاق کی فضا اسی وقت قائم ہوسکتی ہے جب
ہمارا مطمع نظر مادیت کے بجائے روحانیت اور حصول دنیا کے بجائے دین کی
ترویج و اشاعت ہو۔ آپسی بغض و عناد اور بے جا مسلکی و مشربی تعصبات سے
بالاتر ہوکر ہم ایمانی رشتہ اخوت کے بندھن میں بندھ جائیں اور ایک دوسرے کے
تعلق سے اپنے دل میں دردمندانہ جذبہ پیدا کریں۔
لیکن آج حالات نہایت ناگفتہ بہ ہوچکے ہیں۔ خلوص و للہیت بہت حد تک رخصت
ہوچکی ہے۔ آج ذاتی مفادات کے حصول کے لئے جماعت کا بڑے سے بڑا نقصان بھی
بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرلیا جاتا ہے۔ بعض جاہ پرست افراد دنیا
طلبی کی خاطر ہمیشہ مشربی اختلافات کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔ انہیں جماعت کا
اتحاد و اتفاق ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اختلاف و انتشار کی آگ بھڑکانے کے لئے
اپنی ذہنی و فکری توانائیاں صرف کررہے ہیں۔ ہمیں ایسے افراد کو نگاہ میں
رکھ کر کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا تاکہ ہماری جماعت مزید تباہی و بربادی
سے محفوظ رہ سکے۔
اتحاد و اتفاق کی قوت کا اندازہ چند برسوں پہلے رونما ہونے والے ڈنمارک کے
حادثے سے لگایا جاسکتا ہے۔ جب وہاں کے ایک گستاخ کارٹونسٹ نے رسول اکرمﷺ کا
اہانت آمیزکارٹون بنا کر اخبارات میں شائع کیا تھا۔ پھر عالم اسلام سے پے
درپے شدید احتجاجات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور متفقہ طور پر ڈنمارک کی
مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ نتیجتاً ڈنمارک کی معیشت تباہ و برباد
ہونے لگی تھی۔ آخرکار ڈنمارک حکومت کو لاچار و مجبور ہوکر عالم اسلام سے
معافی طلب کرنی پڑی تھی اور اعلانیہ طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑا
تھا۔ یقینا یہ اعتراف مسلمانوں کے آپسی اتحاد ہی کا نتیجہ تھا۔ آج بھی اگر
قوم مسلم آپس میں اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرکے ایک دوسرے کے دست و بازو
بن جائیں تو اپنی عظمت رفتہ کی بازیابی میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔
٭٭٭
اختلاف کو ہوا دینے والے شرپسندوں کی گوشمالی کرنی چاہئے - See more at: http://www.tahaffuz.com/4612/#sthash.8hFYSEZw.dpuf
No comments:
Post a Comment