Saturday, 17 November 2018

مفتی کمال الدین اشرفی مصباحی

تاثـــــــر
جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے قابلِ فخر فرزندوں میں ایک محترم  نام حضرت مولانا مفتی محمدکمال الدین اشرفی مصباحی صاحب کا ہے۔آپ نے اپنی گوناگوں خدمات اور کار ناموں کی وجہ سے  بہت ہی مختصر سے وقت میں جو شہرت ومقبولیت حاصل کی ہے وہ کم ہی لوگوں کا نصیبہ ہو تا ہے۔عہدِ طالب علمی سےاب تک آپ کی کامیابیوں کا سفرتسلسل کے ساتھ جاری ہے ، یکے بعدِ دیگرےمختلف میدانوں میں آپ کی خدمات کا کا دائرہ وسیع سے وسیع تر ہو تا جارہاہے ۔در اصل جوش جنوں ،جہدِ مسلسل ، عملِ پیہم اور اخلاص ووفا یہ وہ اوصاف ہیں جو شخصیت کی تعمیر اور اسے عروج وارتقا کی منزلوں تک پہنچانے میں اہم کردارادا کرتے ہیں اور  مکمل محنت و لگن کے ساتھ جو بھی معرکہ سر کر نے
کی کوشش کی جاتی ہے اس   میں کام یابی یقینی ہوا کرتی ہے،تجربات ،مشاہدات اور تاریخی شواہد ہمیں ان حقائق کو تسلیم کر نے پر مجبور کرتے
ہیں ۔
  حضرت مولانا مفتی کمال الدین اشرفی مصباحی صاحب قبلہ کو اللہ تعالیٰ نےبے شمار کمالات اور خوبیوں سے نوازا ہے ،یہ وہ اوصاف  کمالات ہیں جوایک ہی شخصیت میں کم ہی جمع ہو پاتے ہیں ۔ علمی وتبلیغی سر گر میوں کےتین بڑے میدان ہو تے ہیں ؛ تحریر، تقریر،تدریس ۔عام طور پر انسان اپنےلیے ان  تینوں میدانوں میں سے  کسی ایک کا انتخاب کرتا ہے اور اسی  میں اپنی پوری توانائی صرف کر تا ہے اور اسی میدان کے حوالے سے  اس کی شناخت بھی ہوتی ہے ۔ بہت کم ایسا ہو تا ہے کہ کوئی شخصیت ان تینوں میدانوں میں کامل دسترس رکھے اور خاطر خواہ تینوں میدانوں میں  گراں قد خد مات بھی انجام دے ، اگر کوئی فرد فکر وعمل کی ان تینوں جولان گاہ میں اپنی
جولانیت برقرا ر رکھے تو ہمیں  اسے ہمہ جہت شخصیت   کہنے میں کوئی تامل نھیں ہو نا چاہیے   ۔
حضرت مفتی کمال الدین اشرفی مصباحی قبلہ  عہدِ طالب علمی میں جامعہ اشرفیہ مبارک پور میں اساتذہ وطلبہ کے مابین قدر کی نگاہوں سے دیکھے جاتےتھے ، عہد طالبِ علمی ہی میں ان کے کئی مضامین ماہ نامہ اشرفیہ مبارک پورمیں شائع ہو کر مقبول عام وخاص ہو ئے ،زمانہ طالب علمی ہی سے ان کی علمی اور قلمی صلاحیتیں آشکارا تھیں ،آج وہ متعدد کتب ورسائل کے مصنف ہیں،ملک کے معیاری رسائل میں ان کے مضامین  مکمل اہتمام کے ساتھ شائع کیےجاتے ہیں،اعلیٰ معیارکے اخبارات اپنے خصوصی ضمیموں میں ان کے مضامین کوترجیحی طور پر شامل  کرتے ہیں ۔ملک کے مختلف گوشوں میں منعقد ہو نے والےعلمی ، فقہی ، ادبی سیمیناراور مجلس مذاکرا ت میں ان کی شرکت  ہواکرتی ہے
، ایک نوجوان فاضل اور صاحب فکر وقلم کے لیے یہ حصول یابیاں بہت معنی رکھتی ہیں ،سچ یہ ہے کا ان کا قلمی سفر مکمل نظم وضبط کے ساتھ منزل کی طرف رواں دواں ہےاور ان کی تحقیقات اور تخلیقات  کا سلسلہ بہت تیزی کےساتھ جاری ہے ۔
عام طور پر درس گا ہوں سے وابستہ علما ے کرام کے لیے تحریر ی کام کر نابڑا مشکل ہو تا ہے ، وہ درس گاہی مصروفیات   اور اس سے متعلق دوسری منصبیذمے داریوں میں اس قدر الجھ جاتے ہیں کہ تحریری کاموں کےلیے جس اطمیناو
سکون اور ذہنی یک سوئی کی ضرورت ہو تی  ہےوہ میسر نہیں ہوپاتی۔لیکن   بعض اہل ذوق اور بلند عزم وحوصلے کے حامل علماے کرام  اسی اضطراب وانتشار کےعالم میں درس  وتدریس کے ساتھ  اپناقلمی سفر بھی جاری رکھتے ہیں ، یقینا
علماے کرام کا یہ طبقہ  قابل صد مبارک باد اور جماعت اہل سنت کے لیے باعث افتخار ہے ۔حضرت مفتی کمال الدین اشرفی مصباحی قبلہ بھی  فراغت  کے بعدسے ہی  ملک کی معیاری درس گاہوں کے اعلیٰ مناصب پر فائز رہےہیں ،تدریسی
میدان میں بھی ان کی ایک امتیازی شناخت ہے ،ان کے تلامذہ کی ایک بڑی تعداد ملک کے کئی بڑے تعلیمی اداروں میں درس وتدریس کے فرائض انجام دےرہے ہیں۔آپ کا تعلق بھی عصر حاضر کے اہل فکر وقلم کے اسی طبقے سےہے جودرس وتدریس اور فقہ وافتا کی تمام تر مصروفیات کے باوجود تصنیف وتالیف سےبھی اپنی وابستگی کو مستحکم رکھنے کام یا ب ہیں ۔
آپ ایک طویل عرصے تک  قطب بنگال شیخ علاء الحق پنڈوی کی نگری پنڈوہ شریف
میں قائم عظیم تعلیمی ادارہ  الجامعۃ العلائیہ مخدوم اشرف مشن   پھر اس کے بعد  جائس راے بریلی کے معروف تعلیمی ادارہ  ادارۂ شرعیہ  میں تدریس ،تبلیغ اور فتاویٰ نویسی کی اہم ذمے داریوں کو نبھاتے رہے ہیں ، فی الوقت موخر الذکرادارے کے شیخ الحدیث ، صدر مفتی اور قابل فخر استاذہیں ۔
        حضرت مفتی کمال الدین صاحب اشرفی مصباحی ایک عمدہ اور باوقارخطیب بھی
ہیں ،موجودہ عہد میں کڑسی توڑ خطبا کی کوئی کمی  نھیں ،ہر گاؤں ، ہر قصبے
اور ہر آبادی میں ایسے خطبا باآسانی  دستیاب ہیں ،  لیکن  افسوس اس بات کا ہے کہ آج بھی ایسے خطبا کم یاب ہیں جو عالمانہ وقار اور پوری ذمے داری
کے ساتھ خطاب کریں ، جن  کاخطاب  سن کر لوگوں کے دلو ں میں انقلاب بپا ہو، جن کے دل میں خطابت کے ذریعہ اصلاح اعمال جذبہ ہو ، جو واقعی اصلاح معاشرہ کے پاکیزہ جذبے کے ساتھ اپنے اس فن کو  بروے کار لائیں،حضرت مفتی کمال الدین صاحب اشرفی مصباحی ایک طویل  عرصے سے خطابت کے میدان سےوابستہ ہیں ،بڑے  سے بڑے اسٹیج پر مکمل اعتما دکے ساتھ خطاب فرماتے ہیں ،
کئی بار عرس رضوی کے اسٹیج پر بھی آپ کو خطاب کا شرف حاصل ہو اہے ،آپ مسلک ِ اعلیٰ حضرت کے سنجیدہ داعی مبلغ ہیں ، امام احمد رضا بریلوی کے
افکار ونظریات کو اپنے مخصوص خطیبانہ لب ولہجے میں بیان فرماتے ہیں،احقاق حق اور ابطالِ باطل  آپ کا مشن ہے ، فکررضا  کے فروغ کے لیے مخلصانہ طورجد وجہد فر ماتے ہیں، گویا اس میدان میں بھی آپ  اپنے اقران ومعاصرین میں امتیازی حیثیت کے حامل ہیں ۔
        حضرت مفتی کمال الدین صاحب اشرفی مصباحی  قبلہ   مختلف موضوعات پر نصف
درجن سے زائد کتابوں کے مصنف ہیں ، ان کی یہ تصانیف  اہل علم  کےدر میان اعتبار واعتماد کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں اور علم وادب کی مستند شخصیات کی تقریظات سے مزین ہیں ۔ اشرف الاولیا حیات وخدمات،بنگال اور اسلام کا تاریخی مذہبی جائزہ ،عورت کے نان ونفقہ کا  شرعی حکم  اور سپریم کورٹ کےفیصلے ، استاذ العلما مشرقی بہار کی عبقری شخصیت  وغیرہ کتب خاص طور سےقابل ذکر ہیں ۔ قَدْرُ الْمؤلَّفْ بِقَدْرِ الْمؤلِفْ کے تحت ہم اس گفتگوکے بعد اک نظر آپ کی اِس اہم  تالیف پر ڈالتے ہیں ۔
آپ کی تازہ ترین تالیف  ’’ فقہ وفتاویٰ کی تدوین وتاریخ ‘‘زیور طباعت سےآراستہ ہو کر منظر عام پر آرہی ہے ،جو اپنے موضوع پر بہت ہی اہم  اور
گراں قدر تالیف ہے،اس کتا ب میں انھوں نے بہت ہی جامعیت کے ساتھ  فقہ وفتاویٰ کی تاریخ ،تدوین فقہ اسلامی کے ادوار ، ائمہ اربعہ اور ان کے
فقہی مسالک ، تدوین فقہ کی ضرورت واہمیت ، فقہاے احناف کے طبقات  ، فقہ وفتاویٰ کے مستند مآخذپرعالمانہ ومحققانہ گفتگو کی ہے۔یہ کتاب  تدوین فقہ حنفی کے حوالے سے  اہم اور ماخذ کی حیثیت رکھنے والی کتابوں کی خوب صورت تلخیص ہے ، مؤلفِ گرامی نے کامل مہارت  کے ساتھ ان مستند کتب کے طویل ترین مباحث کو  مختصر اور جامع اندازمیں  اپنے  اس رسالے میں شامل فرمایا ہے ،یقینا  تاریخِ فقہ  سے دل چسپی رکھنے والے  اہل ذوق کے لیے  یہ ایک قیمتی تحفہ ہے ۔
ہمارے مدارس میں مختلف علوم و فنون کی تعلیم کا سلسلہ  قدیم زمانے سےرائج ہے۔علم قرآن ، علم تفسیر ، علم حدیث ، علم اصول حدیث ، علم فقہ ،
علم اصول فقہ اور علوم عربیہ کی تعلیم تو ہر ادارے میں ہوتی ہے ، لیکن عام طور پر فنون کی تاریخ اوران کی تدوین کے سلسلے میں آگاہی کے لیے نصاب
میں کوئی  مواد شامل نھیں ہو تا ، حالاں کہ طلبہ کے لیے فن کی تعلیم کےساتھ اس کی تاریخ ، تدوین کے مراحل اور اس فن کے مستند مآخذ کا علم بھی
ہو نا ضروری ہے ۔علم فقہ کی تدریس کے ساتھ  بطور مطالعہ  علم فقہ کی تاریخ وتدوین  کو غیر درسی نصاب کے طور پر شامل کیاجانا بھی ضروری ہے ،
اسی طرح دیگر فنون کے ساتھ ان کی تاریخ کے مطالعے کو  بھی نصاب کا حصہ بنانا بھی ا ز حد لازم ہے ۔اس تناظرمیں حضرت مفتی کمال الدین اشرفی مصباحی قبلہ کی اس کاوش کو نظر استحسان سے دیکھا جانا چاہیے ،علم فقہ کی
تدوین کے حوالے سے اس رسالے کا مطالعہ  علما وطلبہ کے بے حد مفید ہو گا ۔
اس کتاب کی اہمیت وافادیت کے لیے یہی کافی ہے کہ عصر حاضر کے ایک جلیل القدر محقق اور بے مثال عالم دین ، عمدۃ المحققین حضرت علامہ محمد احمدمصباحی دام ظلہ العالی ناظم تعلیمات الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور نے نظرثانی فر مائی ہے ،آپ کی باریک نظری اور علمی جاہ وجلال کا ایک زمانہ قائل ہے ۔
میں رب تعالیٰ کی بارگاہ میں دعا گو ہوں کہ مؤلف کی یہ تالیف بھی ان کی دیگر تالیفات کی طرح مقبول عام وخاص ہو اور مؤلف کی حصول یابیوں کا سلسلہ اسی طرح جاری وساری رہے ۔ آٓمین بجاہ حبیبہ سید المر سلین وعلیٰ آلہ وصحبہ اجمعین ۔
                                                                                   محمد ساجد رضا مصباحی                                                    خادم درس وافتا دارالعلوم غریب نواز داہو گنج   کشی نگر یو پی
                                                            ۷؍ ربیع النور ۱۴۴۰ھ/مطابق۱۶؍ نومبر ۲۰۱۸ء جمعہ مبارکہ

Friday, 22 February 2013

SALAM

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکا تہ



یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ اتحاد واتفاق باعث خیروبرکت اور اجتماعی عروج و ارتقاء کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ جبکہ افتراق و انتشار‘ تباہی و بربادی‘ غربت و افلاس کا پیش خیمہ ہے۔ تاریخ عالم کے مطالعے سے یہ بات پوری طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں وہی قومیں اپنی عظمت و سطوت کے پرچم لہراتی ہیں جنہوں نے آپسی بغض و عناد اور اختلاف و انتشار سے دور رہ کر اپنی پوری توانائی ملکی‘ ملی‘ سماجی اور سیاسی اصلاح میں صرف کی۔ اس کے برعکس وہ قومیں جو خانہ جنگی کا شکار ہوکر الگ الگ ٹولیوں میں بٹ گئیں انہیں زندگی کے ہر شعبے میں شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا اور زندگی کے ہر شعبے میں انہیں ناکامی و نامرادی ہی ہاتھ آئی۔

عالمی منظر نامے میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کسی بھی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں۔ مسلمان معاشیات‘ اقتصادیات‘ سیاسیات بلکہ زندگی کے تمام اہم شعبوں میں تشویش ناک حد تک بچھڑتے جارہے ہیں۔ عالمی تجارتی منڈیوں میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہوتی جارہی ہے۔ آپس کے اختلاف و انتشار نے انہیں پوری طرح کھوکھلا کر ڈالا ہے۔ تمام تر معدنی ذخائر پر قبضہ ہونے کے باوجود زندگی کے تمام شعبوں میں دوسروں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں۔ مغربی ممالک کی چاپلوسی کا جذبہ اس قدر غالب ہوچکا ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین اسلامی ممالک کی تباہی و بربادی کا تماشا نہایت خاموشی کے ساتھ دیکھ کر مغربی ممالک کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔ سقوط بغداد اور افغانستان کی تباہی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ آخر تمام اسلامی حکومتیں اپنے سیاسی و مذہبی حریفوں کے خلاف کیوں متحد نہیں ہوجاتیں؟ انما المومنون اخوۃ کے اسلامی درس کو کیوں فراموش کردیا گیا؟ آخر یہ رشتہ اخوت کب کام آئے گا؟

مخالفین اس وقت اپنی پوری توانائی اس مقصد کے لئے صرف کررہے ہیں کہ مسلمانوں میں آپسی اتحاد و اتفاق کے ہرممکن طریقے کو روکا جائے اور انہیں مسلکی و مشربی مسائل میں اس قدر الجھا دیا جائے کہ سیاسی‘ سماجی اور معاشی و اقتصادی استحکام کا موقع ہی نہ مل سکے۔اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے وہ وقتا فوقتا نئے نئے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔ ہمارے سیاسی قائدین مخالفین کی اس پالیسی کو ناکام بنانے کے لئے موثر لائحہ عمل تیار کرنے کے بجائے دانستہ یا نادانستہ اس سے صرف نظر کررہے ہیں۔ بلاشبہ یہ غفلت مستقبل میں ہمارے لئے مزید مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ ہاں 4 جون 2008ء کو مکہ المکرمہ میں منعقد ہونے والے سہ روزہ بین المذاہب مکالمہ کانفرنس کو اس ضمن میں ایک اہم پیش رفت کہا جاسکتا ہے جس میں عالم اسلام کے پانچ سو سے زائد علمائ‘ فقہا‘ مفکرین و مبصرین اور تقریبا چودہ سو دوسرے سیاسی قائدین نے شرکت کی۔ جس کا مقصد اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنا اور مسلمانوں کے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے اجتماعی طور پر غوروفکر کرنا تھا۔ خدا کرے اس کانفرنس کے مثبت نتائج برآمد ہوں اور عالم اسلام کی شیرازہ بندی کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہو۔

مسلمانوں کو آپسی اختلاف و انتشار کی تشویش ناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے آپسی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ساتھ ساتھ قرآنی اور اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونا بھی ضروری ہے۔ اسلام نے ہر موڑ پر فرد پر جماعت کو ترجیح دی ہے۔ انفرادیت کے بجائے اجتماعیت کو باعث فتح و نصرت قرار دیا ہے۔ فرمان رسالت ہے۔

یداﷲ علی الجماعۃ (مشکوٰۃ)  اﷲ تعالیٰ کی حمایت جماعت کے ساتھ ہے

اتبعوا السواد الاعظم ‘ وارکعوا مع الراکعین

اور ان جیسے دوسرے  احکام سے ہمیں اجتماعیت کاو اضح درس ملتا ہے۔

اسلامی سماج و معاشرے میں اتحاد و اتفاق کی فضا اسی وقت قائم ہوسکتی ہے جب ہمارا مطمع نظر مادیت کے بجائے روحانیت اور حصول دنیا کے بجائے دین کی ترویج و اشاعت ہو۔ آپسی بغض و عناد اور بے جا مسلکی و مشربی تعصبات سے بالاتر ہوکر ہم ایمانی رشتہ اخوت کے بندھن میں بندھ جائیں اور ایک دوسرے کے تعلق سے اپنے دل میں دردمندانہ جذبہ پیدا کریں۔

لیکن آج حالات نہایت ناگفتہ بہ ہوچکے ہیں۔ خلوص و للہیت بہت حد تک رخصت ہوچکی ہے۔ آج ذاتی مفادات کے حصول کے لئے جماعت کا بڑے سے بڑا نقصان بھی بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرلیا جاتا ہے۔ بعض جاہ پرست افراد دنیا طلبی کی خاطر ہمیشہ مشربی اختلافات کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔ انہیں جماعت کا اتحاد و اتفاق ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اختلاف و انتشار کی آگ بھڑکانے کے لئے اپنی ذہنی و فکری توانائیاں صرف کررہے ہیں۔ ہمیں ایسے افراد کو نگاہ میں رکھ کر کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا تاکہ ہماری جماعت مزید تباہی و بربادی سے محفوظ رہ سکے۔

اتحاد و اتفاق کی قوت کا اندازہ چند برسوں پہلے رونما ہونے والے ڈنمارک کے حادثے سے لگایا جاسکتا ہے۔ جب وہاں کے ایک گستاخ کارٹونسٹ نے رسول اکرمﷺ کا اہانت آمیزکارٹون بنا کر اخبارات میں شائع کیا تھا۔ پھر عالم اسلام سے پے درپے شدید احتجاجات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور متفقہ طور پر ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ نتیجتاً ڈنمارک کی معیشت تباہ و برباد ہونے لگی تھی۔ آخرکار ڈنمارک حکومت کو لاچار و مجبور ہوکر عالم اسلام سے معافی طلب کرنی پڑی تھی اور اعلانیہ طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑا تھا۔ یقینا یہ اعتراف مسلمانوں کے آپسی اتحاد ہی کا نتیجہ تھا۔ آج بھی اگر قوم مسلم آپس میں اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرکے ایک دوسرے کے دست و بازو بن جائیں تو اپنی عظمت رفتہ کی بازیابی میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

٭٭٭

اختلاف کو ہوا دینے والے شرپسندوں کی گوشمالی کرنی چاہئے - See more at: http://www.tahaffuz.com/4612/#sthash.8hFYSEZw.dpuf

یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ اتحاد واتفاق باعث خیروبرکت اور اجتماعی عروج و ارتقاء کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ جبکہ افتراق و انتشار‘ تباہی و بربادی‘ غربت و افلاس کا پیش خیمہ ہے۔ تاریخ عالم کے مطالعے سے یہ بات پوری طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں وہی قومیں اپنی عظمت و سطوت کے پرچم لہراتی ہیں جنہوں نے آپسی بغض و عناد اور اختلاف و انتشار سے دور رہ کر اپنی پوری توانائی ملکی‘ ملی‘ سماجی اور سیاسی اصلاح میں صرف کی۔ اس کے برعکس وہ قومیں جو خانہ جنگی کا شکار ہوکر الگ الگ ٹولیوں میں بٹ گئیں انہیں زندگی کے ہر شعبے میں شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا اور زندگی کے ہر شعبے میں انہیں ناکامی و نامرادی ہی ہاتھ آئی۔

عالمی منظر نامے میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کسی بھی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں۔ مسلمان معاشیات‘ اقتصادیات‘ سیاسیات بلکہ زندگی کے تمام اہم شعبوں میں تشویش ناک حد تک بچھڑتے جارہے ہیں۔ عالمی تجارتی منڈیوں میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہوتی جارہی ہے۔ آپس کے اختلاف و انتشار نے انہیں پوری طرح کھوکھلا کر ڈالا ہے۔ تمام تر معدنی ذخائر پر قبضہ ہونے کے باوجود زندگی کے تمام شعبوں میں دوسروں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں۔ مغربی ممالک کی چاپلوسی کا جذبہ اس قدر غالب ہوچکا ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین اسلامی ممالک کی تباہی و بربادی کا تماشا نہایت خاموشی کے ساتھ دیکھ کر مغربی ممالک کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔ سقوط بغداد اور افغانستان کی تباہی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ آخر تمام اسلامی حکومتیں اپنے سیاسی و مذہبی حریفوں کے خلاف کیوں متحد نہیں ہوجاتیں؟ انما المومنون اخوۃ کے اسلامی درس کو کیوں فراموش کردیا گیا؟ آخر یہ رشتہ اخوت کب کام آئے گا؟

مخالفین اس وقت اپنی پوری توانائی اس مقصد کے لئے صرف کررہے ہیں کہ مسلمانوں میں آپسی اتحاد و اتفاق کے ہرممکن طریقے کو روکا جائے اور انہیں مسلکی و مشربی مسائل میں اس قدر الجھا دیا جائے کہ سیاسی‘ سماجی اور معاشی و اقتصادی استحکام کا موقع ہی نہ مل سکے۔اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے وہ وقتا فوقتا نئے نئے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔ ہمارے سیاسی قائدین مخالفین کی اس پالیسی کو ناکام بنانے کے لئے موثر لائحہ عمل تیار کرنے کے بجائے دانستہ یا نادانستہ اس سے صرف نظر کررہے ہیں۔ بلاشبہ یہ غفلت مستقبل میں ہمارے لئے مزید مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ ہاں 4 جون 2008ء کو مکہ المکرمہ میں منعقد ہونے والے سہ روزہ بین المذاہب مکالمہ کانفرنس کو اس ضمن میں ایک اہم پیش رفت کہا جاسکتا ہے جس میں عالم اسلام کے پانچ سو سے زائد علمائ‘ فقہا‘ مفکرین و مبصرین اور تقریبا چودہ سو دوسرے سیاسی قائدین نے شرکت کی۔ جس کا مقصد اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنا اور مسلمانوں کے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے اجتماعی طور پر غوروفکر کرنا تھا۔ خدا کرے اس کانفرنس کے مثبت نتائج برآمد ہوں اور عالم اسلام کی شیرازہ بندی کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہو۔

مسلمانوں کو آپسی اختلاف و انتشار کی تشویش ناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے آپسی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ساتھ ساتھ قرآنی اور اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونا بھی ضروری ہے۔ اسلام نے ہر موڑ پر فرد پر جماعت کو ترجیح دی ہے۔ انفرادیت کے بجائے اجتماعیت کو باعث فتح و نصرت قرار دیا ہے۔ فرمان رسالت ہے۔

یداﷲ علی الجماعۃ (مشکوٰۃ)  اﷲ تعالیٰ کی حمایت جماعت کے ساتھ ہے

اتبعوا السواد الاعظم ‘ وارکعوا مع الراکعین

اور ان جیسے دوسرے  احکام سے ہمیں اجتماعیت کاو اضح درس ملتا ہے۔

اسلامی سماج و معاشرے میں اتحاد و اتفاق کی فضا اسی وقت قائم ہوسکتی ہے جب ہمارا مطمع نظر مادیت کے بجائے روحانیت اور حصول دنیا کے بجائے دین کی ترویج و اشاعت ہو۔ آپسی بغض و عناد اور بے جا مسلکی و مشربی تعصبات سے بالاتر ہوکر ہم ایمانی رشتہ اخوت کے بندھن میں بندھ جائیں اور ایک دوسرے کے تعلق سے اپنے دل میں دردمندانہ جذبہ پیدا کریں۔

لیکن آج حالات نہایت ناگفتہ بہ ہوچکے ہیں۔ خلوص و للہیت بہت حد تک رخصت ہوچکی ہے۔ آج ذاتی مفادات کے حصول کے لئے جماعت کا بڑے سے بڑا نقصان بھی بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرلیا جاتا ہے۔ بعض جاہ پرست افراد دنیا طلبی کی خاطر ہمیشہ مشربی اختلافات کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔ انہیں جماعت کا اتحاد و اتفاق ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اختلاف و انتشار کی آگ بھڑکانے کے لئے اپنی ذہنی و فکری توانائیاں صرف کررہے ہیں۔ ہمیں ایسے افراد کو نگاہ میں رکھ کر کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا تاکہ ہماری جماعت مزید تباہی و بربادی سے محفوظ رہ سکے۔

اتحاد و اتفاق کی قوت کا اندازہ چند برسوں پہلے رونما ہونے والے ڈنمارک کے حادثے سے لگایا جاسکتا ہے۔ جب وہاں کے ایک گستاخ کارٹونسٹ نے رسول اکرمﷺ کا اہانت آمیزکارٹون بنا کر اخبارات میں شائع کیا تھا۔ پھر عالم اسلام سے پے درپے شدید احتجاجات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور متفقہ طور پر ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ نتیجتاً ڈنمارک کی معیشت تباہ و برباد ہونے لگی تھی۔ آخرکار ڈنمارک حکومت کو لاچار و مجبور ہوکر عالم اسلام سے معافی طلب کرنی پڑی تھی اور اعلانیہ طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑا تھا۔ یقینا یہ اعتراف مسلمانوں کے آپسی اتحاد ہی کا نتیجہ تھا۔ آج بھی اگر قوم مسلم آپس میں اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرکے ایک دوسرے کے دست و بازو بن جائیں تو اپنی عظمت رفتہ کی بازیابی میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

٭٭٭

اختلاف کو ہوا دینے والے شرپسندوں کی گوشمالی کرنی چاہئے - See more at: http://www.tahaffuz.com/4612/#sthash.8hFYSEZw.dpuf

یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ اتحاد واتفاق باعث خیروبرکت اور اجتماعی عروج و ارتقاء کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ جبکہ افتراق و انتشار‘ تباہی و بربادی‘ غربت و افلاس کا پیش خیمہ ہے۔ تاریخ عالم کے مطالعے سے یہ بات پوری طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں وہی قومیں اپنی عظمت و سطوت کے پرچم لہراتی ہیں جنہوں نے آپسی بغض و عناد اور اختلاف و انتشار سے دور رہ کر اپنی پوری توانائی ملکی‘ ملی‘ سماجی اور سیاسی اصلاح میں صرف کی۔ اس کے برعکس وہ قومیں جو خانہ جنگی کا شکار ہوکر الگ الگ ٹولیوں میں بٹ گئیں انہیں زندگی کے ہر شعبے میں شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا اور زندگی کے ہر شعبے میں انہیں ناکامی و نامرادی ہی ہاتھ آئی۔

عالمی منظر نامے میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کسی بھی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں۔ مسلمان معاشیات‘ اقتصادیات‘ سیاسیات بلکہ زندگی کے تمام اہم شعبوں میں تشویش ناک حد تک بچھڑتے جارہے ہیں۔ عالمی تجارتی منڈیوں میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہوتی جارہی ہے۔ آپس کے اختلاف و انتشار نے انہیں پوری طرح کھوکھلا کر ڈالا ہے۔ تمام تر معدنی ذخائر پر قبضہ ہونے کے باوجود زندگی کے تمام شعبوں میں دوسروں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں۔ مغربی ممالک کی چاپلوسی کا جذبہ اس قدر غالب ہوچکا ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین اسلامی ممالک کی تباہی و بربادی کا تماشا نہایت خاموشی کے ساتھ دیکھ کر مغربی ممالک کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔ سقوط بغداد اور افغانستان کی تباہی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ آخر تمام اسلامی حکومتیں اپنے سیاسی و مذہبی حریفوں کے خلاف کیوں متحد نہیں ہوجاتیں؟ انما المومنون اخوۃ کے اسلامی درس کو کیوں فراموش کردیا گیا؟ آخر یہ رشتہ اخوت کب کام آئے گا؟

مخالفین اس وقت اپنی پوری توانائی اس مقصد کے لئے صرف کررہے ہیں کہ مسلمانوں میں آپسی اتحاد و اتفاق کے ہرممکن طریقے کو روکا جائے اور انہیں مسلکی و مشربی مسائل میں اس قدر الجھا دیا جائے کہ سیاسی‘ سماجی اور معاشی و اقتصادی استحکام کا موقع ہی نہ مل سکے۔اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے وہ وقتا فوقتا نئے نئے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔ ہمارے سیاسی قائدین مخالفین کی اس پالیسی کو ناکام بنانے کے لئے موثر لائحہ عمل تیار کرنے کے بجائے دانستہ یا نادانستہ اس سے صرف نظر کررہے ہیں۔ بلاشبہ یہ غفلت مستقبل میں ہمارے لئے مزید مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ ہاں 4 جون 2008ء کو مکہ المکرمہ میں منعقد ہونے والے سہ روزہ بین المذاہب مکالمہ کانفرنس کو اس ضمن میں ایک اہم پیش رفت کہا جاسکتا ہے جس میں عالم اسلام کے پانچ سو سے زائد علمائ‘ فقہا‘ مفکرین و مبصرین اور تقریبا چودہ سو دوسرے سیاسی قائدین نے شرکت کی۔ جس کا مقصد اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنا اور مسلمانوں کے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے اجتماعی طور پر غوروفکر کرنا تھا۔ خدا کرے اس کانفرنس کے مثبت نتائج برآمد ہوں اور عالم اسلام کی شیرازہ بندی کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہو۔

مسلمانوں کو آپسی اختلاف و انتشار کی تشویش ناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے آپسی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ساتھ ساتھ قرآنی اور اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونا بھی ضروری ہے۔ اسلام نے ہر موڑ پر فرد پر جماعت کو ترجیح دی ہے۔ انفرادیت کے بجائے اجتماعیت کو باعث فتح و نصرت قرار دیا ہے۔ فرمان رسالت ہے۔

یداﷲ علی الجماعۃ (مشکوٰۃ)  اﷲ تعالیٰ کی حمایت جماعت کے ساتھ ہے

اتبعوا السواد الاعظم ‘ وارکعوا مع الراکعین

اور ان جیسے دوسرے  احکام سے ہمیں اجتماعیت کاو اضح درس ملتا ہے۔

اسلامی سماج و معاشرے میں اتحاد و اتفاق کی فضا اسی وقت قائم ہوسکتی ہے جب ہمارا مطمع نظر مادیت کے بجائے روحانیت اور حصول دنیا کے بجائے دین کی ترویج و اشاعت ہو۔ آپسی بغض و عناد اور بے جا مسلکی و مشربی تعصبات سے بالاتر ہوکر ہم ایمانی رشتہ اخوت کے بندھن میں بندھ جائیں اور ایک دوسرے کے تعلق سے اپنے دل میں دردمندانہ جذبہ پیدا کریں۔

لیکن آج حالات نہایت ناگفتہ بہ ہوچکے ہیں۔ خلوص و للہیت بہت حد تک رخصت ہوچکی ہے۔ آج ذاتی مفادات کے حصول کے لئے جماعت کا بڑے سے بڑا نقصان بھی بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرلیا جاتا ہے۔ بعض جاہ پرست افراد دنیا طلبی کی خاطر ہمیشہ مشربی اختلافات کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔ انہیں جماعت کا اتحاد و اتفاق ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اختلاف و انتشار کی آگ بھڑکانے کے لئے اپنی ذہنی و فکری توانائیاں صرف کررہے ہیں۔ ہمیں ایسے افراد کو نگاہ میں رکھ کر کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا تاکہ ہماری جماعت مزید تباہی و بربادی سے محفوظ رہ سکے۔

اتحاد و اتفاق کی قوت کا اندازہ چند برسوں پہلے رونما ہونے والے ڈنمارک کے حادثے سے لگایا جاسکتا ہے۔ جب وہاں کے ایک گستاخ کارٹونسٹ نے رسول اکرمﷺ کا اہانت آمیزکارٹون بنا کر اخبارات میں شائع کیا تھا۔ پھر عالم اسلام سے پے درپے شدید احتجاجات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور متفقہ طور پر ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ نتیجتاً ڈنمارک کی معیشت تباہ و برباد ہونے لگی تھی۔ آخرکار ڈنمارک حکومت کو لاچار و مجبور ہوکر عالم اسلام سے معافی طلب کرنی پڑی تھی اور اعلانیہ طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑا تھا۔ یقینا یہ اعتراف مسلمانوں کے آپسی اتحاد ہی کا نتیجہ تھا۔ آج بھی اگر قوم مسلم آپس میں اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرکے ایک دوسرے کے دست و بازو بن جائیں تو اپنی عظمت رفتہ کی بازیابی میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

٭٭٭

اختلاف کو ہوا دینے والے شرپسندوں کی گوشمالی کرنی چاہئے - See more at: http://www.tahaffuz.com/4612/#sthash.8hFYSEZw.dpuf

یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے کہ اتحاد واتفاق باعث خیروبرکت اور اجتماعی عروج و ارتقاء کا موثر ترین ذریعہ ہے۔ جبکہ افتراق و انتشار‘ تباہی و بربادی‘ غربت و افلاس کا پیش خیمہ ہے۔ تاریخ عالم کے مطالعے سے یہ بات پوری طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ ہر دور اور ہر زمانے میں وہی قومیں اپنی عظمت و سطوت کے پرچم لہراتی ہیں جنہوں نے آپسی بغض و عناد اور اختلاف و انتشار سے دور رہ کر اپنی پوری توانائی ملکی‘ ملی‘ سماجی اور سیاسی اصلاح میں صرف کی۔ اس کے برعکس وہ قومیں جو خانہ جنگی کا شکار ہوکر الگ الگ ٹولیوں میں بٹ گئیں انہیں زندگی کے ہر شعبے میں شکست و ریخت کا سامنا کرنا پڑا اور زندگی کے ہر شعبے میں انہیں ناکامی و نامرادی ہی ہاتھ آئی۔

عالمی منظر نامے میں مسلمانوں کی موجودہ صورتحال کسی بھی صاحب نظر سے پوشیدہ نہیں۔ مسلمان معاشیات‘ اقتصادیات‘ سیاسیات بلکہ زندگی کے تمام اہم شعبوں میں تشویش ناک حد تک بچھڑتے جارہے ہیں۔ عالمی تجارتی منڈیوں میں ان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہوتی جارہی ہے۔ آپس کے اختلاف و انتشار نے انہیں پوری طرح کھوکھلا کر ڈالا ہے۔ تمام تر معدنی ذخائر پر قبضہ ہونے کے باوجود زندگی کے تمام شعبوں میں دوسروں کے دست نگر بنے ہوئے ہیں۔ مغربی ممالک کی چاپلوسی کا جذبہ اس قدر غالب ہوچکا ہے کہ ہمارے سیاسی قائدین اسلامی ممالک کی تباہی و بربادی کا تماشا نہایت خاموشی کے ساتھ دیکھ کر مغربی ممالک کے ساتھ اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کررہے ہیں۔ سقوط بغداد اور افغانستان کی تباہی اس کی واضح مثالیں ہیں۔ آخر تمام اسلامی حکومتیں اپنے سیاسی و مذہبی حریفوں کے خلاف کیوں متحد نہیں ہوجاتیں؟ انما المومنون اخوۃ کے اسلامی درس کو کیوں فراموش کردیا گیا؟ آخر یہ رشتہ اخوت کب کام آئے گا؟

مخالفین اس وقت اپنی پوری توانائی اس مقصد کے لئے صرف کررہے ہیں کہ مسلمانوں میں آپسی اتحاد و اتفاق کے ہرممکن طریقے کو روکا جائے اور انہیں مسلکی و مشربی مسائل میں اس قدر الجھا دیا جائے کہ سیاسی‘ سماجی اور معاشی و اقتصادی استحکام کا موقع ہی نہ مل سکے۔اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے وہ وقتا فوقتا نئے نئے شوشے چھوڑتے رہتے ہیں۔ ہمارے سیاسی قائدین مخالفین کی اس پالیسی کو ناکام بنانے کے لئے موثر لائحہ عمل تیار کرنے کے بجائے دانستہ یا نادانستہ اس سے صرف نظر کررہے ہیں۔ بلاشبہ یہ غفلت مستقبل میں ہمارے لئے مزید مسائل پیدا کرسکتی ہے۔ ہاں 4 جون 2008ء کو مکہ المکرمہ میں منعقد ہونے والے سہ روزہ بین المذاہب مکالمہ کانفرنس کو اس ضمن میں ایک اہم پیش رفت کہا جاسکتا ہے جس میں عالم اسلام کے پانچ سو سے زائد علمائ‘ فقہا‘ مفکرین و مبصرین اور تقریبا چودہ سو دوسرے سیاسی قائدین نے شرکت کی۔ جس کا مقصد اسلامی ممالک کے درمیان اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرنا اور مسلمانوں کے مشترکہ مسائل کے حل کے لئے اجتماعی طور پر غوروفکر کرنا تھا۔ خدا کرے اس کانفرنس کے مثبت نتائج برآمد ہوں اور عالم اسلام کی شیرازہ بندی کا دیرینہ خواب شرمندہ تعبیر ہو۔

مسلمانوں کو آپسی اختلاف و انتشار کی تشویش ناک صورتحال سے نمٹنے کے لئے آپسی مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ساتھ ساتھ قرآنی اور اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ہونا بھی ضروری ہے۔ اسلام نے ہر موڑ پر فرد پر جماعت کو ترجیح دی ہے۔ انفرادیت کے بجائے اجتماعیت کو باعث فتح و نصرت قرار دیا ہے۔ فرمان رسالت ہے۔

یداﷲ علی الجماعۃ (مشکوٰۃ)  اﷲ تعالیٰ کی حمایت جماعت کے ساتھ ہے

اتبعوا السواد الاعظم ‘ وارکعوا مع الراکعین

اور ان جیسے دوسرے  احکام سے ہمیں اجتماعیت کاو اضح درس ملتا ہے۔

اسلامی سماج و معاشرے میں اتحاد و اتفاق کی فضا اسی وقت قائم ہوسکتی ہے جب ہمارا مطمع نظر مادیت کے بجائے روحانیت اور حصول دنیا کے بجائے دین کی ترویج و اشاعت ہو۔ آپسی بغض و عناد اور بے جا مسلکی و مشربی تعصبات سے بالاتر ہوکر ہم ایمانی رشتہ اخوت کے بندھن میں بندھ جائیں اور ایک دوسرے کے تعلق سے اپنے دل میں دردمندانہ جذبہ پیدا کریں۔

لیکن آج حالات نہایت ناگفتہ بہ ہوچکے ہیں۔ خلوص و للہیت بہت حد تک رخصت ہوچکی ہے۔ آج ذاتی مفادات کے حصول کے لئے جماعت کا بڑے سے بڑا نقصان بھی بڑی خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرلیا جاتا ہے۔ بعض جاہ پرست افراد دنیا طلبی کی خاطر ہمیشہ مشربی اختلافات کو ہوا دیتے رہتے ہیں۔ انہیں جماعت کا اتحاد و اتفاق ایک آنکھ نہیں بھاتا۔ اختلاف و انتشار کی آگ بھڑکانے کے لئے اپنی ذہنی و فکری توانائیاں صرف کررہے ہیں۔ ہمیں ایسے افراد کو نگاہ میں رکھ کر کیفر کردار تک پہنچانا ہوگا تاکہ ہماری جماعت مزید تباہی و بربادی سے محفوظ رہ سکے۔

اتحاد و اتفاق کی قوت کا اندازہ چند برسوں پہلے رونما ہونے والے ڈنمارک کے حادثے سے لگایا جاسکتا ہے۔ جب وہاں کے ایک گستاخ کارٹونسٹ نے رسول اکرمﷺ کا اہانت آمیزکارٹون بنا کر اخبارات میں شائع کیا تھا۔ پھر عالم اسلام سے پے درپے شدید احتجاجات کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا اور متفقہ طور پر ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیا گیا تھا۔ نتیجتاً ڈنمارک کی معیشت تباہ و برباد ہونے لگی تھی۔ آخرکار ڈنمارک حکومت کو لاچار و مجبور ہوکر عالم اسلام سے معافی طلب کرنی پڑی تھی اور اعلانیہ طور پر اپنی غلطی کا اعتراف کرنا پڑا تھا۔ یقینا یہ اعتراف مسلمانوں کے آپسی اتحاد ہی کا نتیجہ تھا۔ آج بھی اگر قوم مسلم آپس میں اتحاد و اتفاق کی فضا قائم کرکے ایک دوسرے کے دست و بازو بن جائیں تو اپنی عظمت رفتہ کی بازیابی میں کامیاب ہوسکتے ہیں۔

٭٭٭

اختلاف کو ہوا دینے والے شرپسندوں کی گوشمالی کرنی چاہئے - See more at: http://www.tahaffuz.com/4612/#sthash.8hFYSEZw.dpuf